Galaxy
شہابیوں میں پانی اور کیمیائی مرکبات کی دریافت
دریافت سے ثابت ہوتا ہے کہ نظام شمسی دیگر مقامات پر بھی موجود ہو سکتا ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ نظام شمسی چھوٹے چھوٹے شہابیوں کے ذریعے سیاروں کے درمیان سفر کر رہا ہو

امریکہ کی لارنس برکلے نیشنل لیبارٹریز کے سائنس دانوں کے ایک گروپ نے زمین پر گرنے والے دو شہابیوں میں پانی اور کیمیائی مرکبات کی دریافت کی ہے۔
Phys.org نامی سائٹ پر شائع ہونے والے تحقیقی مقالے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ اجسام کا دنیا میں گرنا دنیا میں زندگی کی پیدائش کی راہ ہموار کرنے کے نظرئیے کو سامنے لاتا ہے۔
ماہرین نے سال 1998 میں دنیا میں گرنے والے شہابیے کے ٹکڑوں سے حاصل کردہ نمونوں میں موجود معدنی نمک کے کرسٹلوں کے کیمیائی مندرجات کا مشاہدہ کیا۔
تحقیقی نتائج کے مطابق ان کرسٹلوں میں نمک کے اندر بھرا ہوا پانی اور بیالوجک حوالے سے دنیا میں اہم کردار ادا کرنے والے امینو ایسڈ ، ہائیڈرو کاربن اور دیگر مرکبات کے مالیکیول موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس دریافت سے ثابت ہوتا ہے کہ نظام شمسی دیگر مقامات پر بھی موجود ہو سکتا ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ نظام شمسی چھوٹے چھوٹے شہابیوں کے ذریعے سیاروں کے درمیان سفر کر رہا ہو۔
Comments
Post a Comment